Posts

کیا پاکستان امریکی انخلا کے لیے فضائی راستہ فراہم کر رہا ہے؟ جہاں تاب حسین ج ح خ پروڈکشن ۴ جولائی 2021 افغان  دارالحکومت کابل سے 22 جون کی شب دنیا کے سب سے بڑے مال بردار طیارے ’انٹونوف اے این 225‘ نے اڑان بھری اور اگلی صبح یہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، یہ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر 20 گھنٹے سے زیادہ موجود رہا۔   دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان سے نیٹو فوجی ساز و سامان کی زمینی رسد کے دو راستے تھے، جن میں سے ایک خیبر پاس سے سے کابل تک اور دوسرا بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے قندھار تک تھا۔ اس دوران امریکہ بلوچستان میں قائم شمسی ائیربیس اور سندھ میں واقع شہباز ائیربیس کو بھی استعمال کرتا رہا ۔ جہاں سے امریکی  طیارے پرواز  کرتے جبکہ شمسی ائیربیس کو ڈرون حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق ستر فیصد سامان زمینی راستوں جبکہ 0 3 فیصد سامان بذریعہ جہاز پہنچایا جاتا تھا۔رسد میں مدد فراہم کرنے کے بدلے پاکستان خاصی بڑی رقم سالانہ فیس کے طور پر وصول کیا کرتا تھا، جس کو 'اتحادی سپورٹ فنڈ' کہا جاتا تھا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق 2018 تک پاکستا...
Image
Image